Mujhe Sandal Kar Do By Nimra Noor

  
Novel : Mujhe Sandal Kar Do
Writer Name : Nimra Noor

Mania team has started  a journey for all social media writers to publish their Novels and short stories. Welcome To All The Writers, Test your writing abilities.
They write romantic novels, forced marriage, hero police officer based Urdu novel, suspense novels, best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels , romantic novels in Urdu pdf , full romantic Urdu novels , Urdu , romantic stories , Urdu novel online , best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels
romantic novels in Urdu pdf, Khoon bha based , revenge based , rude hero , kidnapping based , second marriage based,
Mujhe Sandal Kar Do Novel Complete by 
Nimra Noor is available here to download in pdf form and online reading.

$ads={2}
 

اچھا چھوڑیں یہاں آئیں اوپر چلتے ہیں۔" " اس مینار کے اوپر ؟ لیکن شاہ یہ تو بہت اونچا ہے میں تو چلتے چلتے تھک ہی جاوں گی۔اس کا مسلئہ عظیم سن کر وہ ہنس دیا۔ تو کوئی بات نہیں پرنسسز میں ہوں نا اپنی بانہوں میں اٹھاکر لے جاوں گا۔وہ اسکو نزدیک کرتا اپنے بازوں اس کے کندھے کے گرد پھیلا دیا۔ جی نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے آپ کو تو بس موقع ملنا چاہیے دن بدن آپ گندے ہوتے جارہے ہیں۔وہ اس کے بازوں سے نکل کر آگے آگے چلنے لگی وہ بھی اس کے پیچھے چل پڑا۔ اچھا تو میں اب گندہ ہوگیا۔" "اور نہیں تو کیا سب کے سامنے ہی شروع ہوجاتے بندہ جگہ بھی تو دیکھ لیتا ہے۔" "بلشنگ یو لائک دس میک مائی ہاڑٹ بیٹ۔وہ اسے دیکھ کر بولا۔ وہ لوگ اب ایفل ٹاول کی لفٹ سے اوپر جارہے تھے اینڈ دس کائنڈ ٹاک آف رومینٹک بریک مائی ربز شاہ۔اس کی بات پر قہقہ لگا کر ہنسا آس پاس کے کئیں لوگ اس کی ہنسی کی جلترنگ پر متوجہ ہوئے وہ ہنستا تھا ایسا لگتا جیسے ساری خوبصورتی اسی میں سما گئی تھی۔ رئیلی پرنسسز آپ کی باتیں آپ کا انداز مجھے ہر دفعہ یونہی مسکرانے پر مجبور کردیتا تھا۔اس کی بات پر وہ مسکرا دی۔ وہ لوگ اوپر آچکے تھے یہاں پر تقریبا دور دور تک سب کچھ نظر آرہا تھا وہاں کا ہر ایک منظر دلکش اور حسین تھا "شاہ آپ مجھے کیا دیکھ رہے ہیں یہ خوبصورت منظر دیکھیں کتنے حسین اور دلکش ہیں۔" وہ اپنے موبائل میں ویڈیو بنا رہی تھی جب اس کی نظر ابان پر پڑی جو ٹھوڑی نیچے ہاتھ رکھے اس کے چہرے پر پھوٹتی خوشی کو بغور دیکھ رہا تھا۔ میں بھی تو قدرت کا حسین منظر دیکھ رہا ہوں بس آپ اپنے منظر کو کیمرے کی آنکھ میں قید کررہی ہیں اور ہم حسین ترین منظر کو اپنی آنکھوں اور دل و دماغ میں قید کررہے ہیں۔وہ معنی خیز انداز میں اس کے ایک نقش کو دیکھتے ہوئے بولا جب وہ اس کے سامنے ہوتی وہ تو اپنا آپ بھی بھول جاتا تھا صرف اسے ہی دیکھتا رہتا تھا۔ آپ اس منظر سے کبھی تو نظر ہٹا لیا کریں لوگ کیا کہیں گے کہ بیوی نے آندھا کردیا ہے۔" اس کی بات پر وہ ایک دفعہ پھر قہقہ لگا کرہنسا۔ ہاہاہہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔ اگر ایسی بات ہے تو مجھے ساری زندگی آندھا رہنا منظور ہے۔ میں تو یہ حسین منظر اب ساری زندگی اپنے دل میں بسائے رکھنا چاہتا یہاں تک کے آخری سانس بھی لوں تو یہ منظر میری آنکھوں سے نہ ہٹے اور میں کلمہ پڑھتے اللہ کا شکر ادا کرتے موت کی آغوش میں چلا جاوں۔وہ اس کی بات پر جہاں شرمیلی سی لبوں مسکان سجائے اپنا کام کررہی تھی اس کی آخری بات پر غم و غصے سے موبائل سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھنے لگی۔ "آپ کو شرم نہیں آتی ایسی بات کرتے ہوئے بے رحم انسان میرا کچھ بھی خیال نہیں آپ کو۔اس کی بات سے تو اس کا دل دہل سا گیا تھا اور آنکھیں آنسو سے بھری ہوئی تھیں اسے اپنی شدید غلطی کا احساس ہوا۔ ایم سوری پرنسسز میں تو بس ویسے ہی بات کررہا تھا۔وہ اس کے نزدیک آیا اور پروں سے اس کے آنسوں پروں سے صاف کرنے لگا۔ ہاں آپ کی ویسے ہی یہ اس طرح کی باتیں میری جان لے لیں گی اور پھر دیکھتے رہنا آپ ساری زندگی میرا مرا ہوا چہرہ۔" + وہ اس کے سینے پر مکے برساتے بولی۔ "ایم سوری آئندہ بھول کر بھی نہیں کروں گا۔" "ولیمے والی رات بھی آپ نے ایسا ہی کہا تھا۔"وہ منہ بسورتے ہوئے بولی۔ "آئندہ میری جان کی توبہ جو میں نے ایسی بات بھی کی تو۔"

Click on the link given below to Free download Pdf It's Free Download Link

Media Fire Download Link
Click Now 

$ads={1}

ONLINE READING


Post a Comment

Previous Post Next Post