Wajha Tum Ho Novel By Malisha Rana

 

 Novel : Wajha Tum Ho
Writer Name : Malisha Rana

Mania team has started  a journey for all social media writers to publish their Novels and short stories. Welcome To All The Writers, Test your writing abilities.
They write romantic novels, forced marriage, hero police officer based Urdu novel, suspense novels, best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels , romantic novels in Urdu pdf , full romantic Urdu novels , Urdu , romantic stories , Urdu novel online , best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels
romantic novels in Urdu pdf, Khoon bha based , revenge based , rude hero , kidnapping based , second marriage based,
Wajha Tum Ho Novel Complete by 
Malisha Rana is available here to download in pdf form and online reading.

$ads={2}
 

ن۔۔۔۔نہیں احمد پپپلززز م۔۔۔مجھے ک۔۔۔۔کمرے میں نہ۔۔۔نہیں جانا احمد حور کو پکڑے اپنے کمرے کی طرف جا رھا تھا جب حور کانپتی ہوئی بولی لیکن کیوں حور ھوا کیا ھے جو تم اس طرح کر رہی ھو ریلیکس صرف لایٹ ہی گئی ھے وہ بھی پتہ نہیں اچانک کیا مسئلہ ھو گیا ھے میں نے چیک کیا مگر مجھ سے تو ٹھیک نہیں ھوا تو سوچا کہ صبح ٹھیک کروا لوں گا اس لئے آ پی کے روم میں کینڈل رکھی اور تمہارے پاس بھی کینڈل لے کر آ رھا تھا مگر مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم اندھیرے سے اتنا ڈرتی ھو ورنہ پہلے تمہارے پاس ہی آ تا احمد نے مسکرا کر حور کو تسلی دی اور کمرے میں لے آیا مگر حور جلدی سے بولی نا نا نہیں احمد م۔۔۔۔۔۔میں اند۔۔۔۔۔اندھیرے سسے ششش میں ھوں نا تمہارے پاس تو تمہیں کسی چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے احمد نے محبت بھری نظروں سے حور کی طرف دیکھا اور اس کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھ کر چپ کروایا چلو حور اب ڈرو نہیں اور چپ چاپ سو جاؤ ویسے بھی کافی تھک گئی ھو گی تم احمد جو آ ج حور کو سرپرائز دے کر اپنی محبت کا اظہار کرنے والا تھا مگر حور کی ایسی حالت دیکھ کر اپنے دل پر جبر کیا اور حور کو سونے کا بول کر اسے بیڈ پر بیٹھا دیا جاؤ حور کپڑے چینج کر لو کیونکہ ان کپڑوں میں تم ٹھیک سے سو نہیں پاؤ گی یہ کینڈل لے جاؤ اور کپڑے چینج کر لو احمد نے حور کو ایک نظر دیکھا اور پھر جلدی سے اپنی نگاہ اس پر سے ہٹا لی کیونکہ حور اس وقت ایک تو اتنی تیار ھو کر حسین ترین لگ رہی تھی اور دوسری وہ یوں ڈری سہمی سیدھا احمد کے دل میں اتر رہی تھی اور سب سے بڑھ کر حور کا دوپٹہ اس کے پاس نہیں تھا ن۔۔۔۔۔نہیں احمد میں ٹھ۔۔۔۔ٹٹھیک ھوں میں ای۔۔۔۔ایسے ہی سو جاؤں گی حور خوفزدہ نظروں سے احمد کی طرف دیکھ کر بولی اوکے جو تم بہتر سمجھوں مگر یہ جیولری اتار دوں چبھے گی تمہیں احمد ابھی بھی نظریں پھیر کر حور سے بات کر رھا تھا جج۔۔۔۔جی حور بول کر اپنی جیولری اتارنے لگی مگر حور سے ایک بھاری ہار جو کہ فضا نے حور کو دیا تھا کہ یہ ان کا خاندانی ہار ھے وہ ہار حور سے نہیں اتر رھا تھا کافی کوشش کے بعد حور مدد طلب نظروں سے احمد کی طرف دیکھ کر بولی جو کہ حور سے رخ پھیرے اب بیڈ پر لیٹ چکا تھا حور کا ڈر بھی اب کافی حد تک احمد کے قریب ھونے سے ختم ھو چکا تھا مگر وہ یہ سوچ چکی تھی کہ صبح وہ حمد سے اس بارے میں بات ضرور کرے گی احمد پلیز میری مدد کریں مجھ سے اس ہار کا لوک نہیں کھل رھا حور نے التجاریہ انداز میں کہا تو احمد کے کروٹ بدل کر حور کو دیکھا جو کہ ابھی بھی لوک کھولنے کی کوشش کر رہی تھی احمد کی نظر اس کی سفید لمبی پتلی سی گردن میں ہی الجھ گئی لیکن پھر جلدی سے اپنی نظر کا زاویہ بدلا اور پھر لاپرواہی سے بولا خود کر لو حور احمد نے جلدی سے کہا اور پھر رخ پھیر گیا جبکہ حور نے حیرانگی سے منہ کھول کر احمد کی طرف دیکھا اور پھر غصے سے بولی خود ھو نہیں رھا اس لئے آ پ سے کہا تھا مگر آ پ تو بہت ہی بے حس نکلے احمد میں اتنی دیر سے ہلکان ھو رہی ھوں مگر آ پ کو کیا فرق پڑتا ھے ویسے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اتنی سی مدد نہیں کر ابھی حور بول ہی رہی تھی کہ اچانک احمد نے حور کا ھاتھ پکڑ کر اسے کھینچا تو وہ سیدھی احمد پر آ گری فرق پڑتا ھے اس لئے تم سے دور ھو رھا ھوں کہ کہیں خود پر سے قابو نہ کھو دوں اور تمہاری مرضی کے بغیر تمہارے ساتھ کچھ غلط نہ کر دوں احمد نے لو دیتی نظروں کے ساتھ حور کی آ نکھوں میں دیکھ کر کہا جبکہ حور نے غور سے احمد کی بات سنی اور پھر اپنے سر کو احمد کے سینے پر رکھ کر صرف اتنا بولی احمد آ ئ لو یو


Click on the link given below to Free download Pdf It's Free Download Link

Media Fire Download Link
Click Now 

$ads={1}

ONLINE READING


Post a Comment

Previous Post Next Post